نئی دہلی:26/نومبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) پہلی اور دوسری کلاس کے طالب علموں کو ہوم ورک سے چھٹکارا دیا گیا ہے اور10ویں کلاس کے طلبہ کے لئے ان کے اسکولی بستے کا بوجھ بھی کم کردیا گیا ہے۔یہ فروغ انسانی وسائل کی وزارت کی طرف سے جاری ایک سرکلر میں کہا گیا ہے۔فرغ انسانی وسائل کی وزارت کی طرف سے اسکولی تعلیم اور خواندگی سیکشن کی جانب سے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو جاری سرکلر کے مطابق پہلی اور دوسری کلاس کے طالب علموں کو اب ہوم ورک نہیں دیا جائے گا۔اس کے علاوہ اس کے اسکولی بستے کابوجھ زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ کلو ہو گا،اس طرح ان کے بستوں کا بوجھ بھی کم ہو گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اسکولوں کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ ایسی کتابیں جس کی ضرورت نہ ہواسے بچے نہ لائیں۔
تیسری سے پانچویں تک کلاس کے طالب علموں کے بستے کا وزن دو سے تین کلو گرام، چھٹی سے ساتویں تک کے لئے چار کلو گرام، آٹھویں سے نویں تک کے طالب علموں کے بستے کے وزن ساڑھے چار کلو گرام اور دسویں کلاس کے طالب علموں کے لئے بستے کے وزن پانچ کلوگرام سے زائد نہ ہو۔وزارت نے پہلی اور دوسری کلاس کے بچوں کو صرف ریاضی اور زبان سکھانے کو کہا ہے، جبکہ تیسری سے پانچویں کلاس کے طالب علموں کو ریاضی، زبان اور جنرل سائنس(ای وی ایس)کو ہی پڑھانے کی ہدایت دی ہے، جسے قومی تعلیمی تحقیق اور تربیت کونسل (این سی آر آر ٹی) کے ذریعہ منظوری دی گئی ہے۔